Nov 02, 2026 موسم کا حال لوڈ ہو رہا ہے...
ALL COPYRIGHT FREE
12:00:00 PM
تازہ ترین Breaking News
خود اعتمادی دوسروں کی تعریف سے نہیں، اپنے عمل سے بنتی ہے Confidence comes from purposeful actions, not the compliments of others •• ہائی کوالٹی کاپی رائٹ فری خطاطی، اے آئی پرامپٹس اور آن لائن ٹولز اب ایک ہی پلیٹ فارم پر بالکل مفت دستیاب ہیں High-quality copyright-free calligraphy, AI prompts, and online tools available 100% free •• علم بانٹنے سے بڑھتا ہے اور حکمت مومن کی گمشدہ متاع ہے Knowledge multiplies when shared, and wisdom is the believer's lost treasure •• خود اعتمادی دوسروں کی تعریف سے نہیں، اپنے عمل سے بنتی ہے Confidence comes from purposeful actions, not the compliments of others •• ہائی کوالٹی کاپی رائٹ فری خطاطی، اے آئی پرامپٹس اور آن لائن ٹولز اب ایک ہی پلیٹ فارم پر بالکل مفت دستیاب ہیں High-quality copyright-free calligraphy, AI prompts, and online tools available 100% free •• علم بانٹنے سے بڑھتا ہے اور حکمت مومن کی گمشدہ متاع ہے Knowledge multiplies when shared, and wisdom is the believer's lost treasure ••

زندگی کا سفر اور وقت کی کروٹیں بھی کیسی عجیب ہیں

نومبر 05, 2026 • صدیق قاسمی • 3.6k وزٹسVisits • 1.7k ڈاؤنلوڈزDownloads

Uploaded Image

زندگی کا سفر اور وقت کی کروٹیں بھی کیسی عجیب ہیں، یہ2002 کی بات ہے   جب  میں نے کمپیوٹر سیکھنا شروع کیا تھا، اس وقت تصور میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ کمپیوٹر سائنس اس قدر ترقی کرے گی کہ زندگی کے ہر شعبے پر یوں حاوی ہو جائے گی کہ انسانوں کی جگہ لے لے گی اور انسانی   مہارتوں کو  استعمال کرتے ہوئے خود  انسان کو   مجبور کردے گی کہ وہ بھی اسی ٹیکنالوجی کے ساتھ چلے ۔

جبکہ  وہ ایک ایسا دور تھا جب بھاری بھرکم مانیٹر اور سست رفتار مشینیں ہوا کرتی تھیں، ہم سوچتے تھے کہ یہ محض حساب کتاب یا دفتری امور میں آسانی پیدا کرنے والی ایک ایجاد ہے،یا پھر اس وقت بہت زیادہ ترقی یہ تھی کہ گرافک ڈیزائننگ کے شعبے میں ہر روز نئی اپڈیٹس ہورہی تھیں  مگر اس میں بھی وقت لگتاتھا ، لیکن کسے معلوم تھا کہ آنے والے برسوں میں ہفتوں اور مہینوں کی جاں گسل مشقت چند گھنٹوں بلکہ چند لمحوں میں سمٹ جائے گی۔

آج جب میں ٹیکنالوجی کے اس عروج کو دیکھتا ہوں، تو انسان کی فہم و فراست پر دنگ رہ جاتا ہوں،مصنوعی ذہانت (AI)، تیز ترین انٹرنیٹ اور جدید ڈیجیٹل آلات نے فاصلوں کو سمیٹ کر ہتھیلی پر رکھ دیا ہے،جو علم اور معلومات حاصل کرنے کے لیے ماضی میں ہمارے اسلاف اور محققین مہینوں کا کٹھن سفر طے کرتے تھے، آج وہ سکرین پر ایک کلک کی دوری پر موجود ہیں، بلاشبہ یہ اللہ رب العزت کی عطا کردہ اس صلاحیت کا کرشمہ ہے جو اللہ نے انسان کو عطا کی ہے ۔

 آج دنیا بھر کا علم، آن لائن سہولیات، اور نت نئے سافٹ ویئرز ہماری خدمت کے لیے دست بستہ کھڑے  نطر آتے ہیں،لیکن اس بے پناہ اور حیران کن ترقی کے ساتھ ہماری معاشرتی زندگی میں ایک خاموش المیہ بھی جنم لے چکا ہے، ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے! کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی نے ہمارا وہ قیمتی وقت بچایا جو ہم پہلے دنوں اور ہفتوں کی مشقت میں صرف کرتے تھے، تو پھر وہ بچا ہوا وقت کہاں گیا؟ کیا ہم نے وہ وقت اپنے بوڑھے والدین کے پاس بیٹھ کر گزارا؟ کیا وہ فراغت ہماری عبادات کے طویل ہونے اور رب کے حضور سجدوں کے گہرے ہونے کا سبب بنی؟ کیا ہم نے وہ وقت اپنے بچوں کی تربیت، ان کی اخلاقی آبیاری اور ٹوٹتے رشتوں کو جوڑنے میں لگایا؟

جواب نہایت تلخ اور تکلیف دہ ہے، مشینیں تو تیز ہو گئیں، لیکن انسان اندر سے تنہا اور کھوکھلا ہو گیا، ہم نے مہینوں کا کام منٹوں میں تو سمیٹ لیا، مگر جو وقت بچا وہ بھی سکرینوں کی بے حس روشنیوں کی نذر ہو گیا، آج ہم ورچوئل دنیا میں ہزاروں دوستوں سے جڑے ہیں، لیکن اپنے برابر والے کمرے میں بیٹھے باپ کی اداسی اور ماں کی خاموشی کو پڑھنے کی فرصت نہیں رہی، جب انسان اندر سے خالی ہو جائے، تو باہر کی کوئی بھی چمک اسے سکون نہیں دے سکتی۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی، جدید آلات اور کمپیوٹر سائنس بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں ہیں، یہ خالقِ کائنات کی دی ہوئی عقل کے ثمرات ہیں جن سے انسانیت کی بے پناہ خدمت لی جا سکتی ہے، تعلیم ہو، طب کا میدان ہو یا دینِ اسلام کی دعوت و تبلیغ، ہر جگہ اس کے مثبت اور حیرت انگیز اثرات نمایاں ہیں، اصل مسئلہ ان آلات کا نہیں، ہمارے رویوں کا ہے، ہم نے مشینوں کو تو سمارٹ بنا لیا، لیکن دلوں کی نرمی، احساس اور اخلاقی اقدار کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنا خادم بنائیں، اسے اپنے اعصاب اور رشتوں پر سوار ہو کر اپنا آقا نہ بننے دیں، اس کی دی ہوئی بے پناہ سہولتوں کو شکر کے جذبے کے ساتھ استعمال کریں اور جو وقت اور توانائیاں بچیں، انہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی، رشتوں کی مٹھاس اور اپنی آخرت سنوارنے میں صرف کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس مادی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی اور اخلاقی بلندی بھی عطا فرمائے، اور ہمیں ان تمام جدید وسائل کو انسانیت کی فلاح، معاشرے کی اصلاح اور دین کی سربلندی کے لیے استعمال کرنے کی سمجھ بوجھ نصیب کرے، آمین۔

⚡ جدید سافٹ ویئر و ٹولز

لوڈ ہو رہا ہے...
🔍

مواد لوڈ کیا جا رہا ہے...