
آدھار کارڈ اور ووٹر آئی ڈی، ووٹر کارڈ کے لیے آدھار ضروری ہے یا نہیں، بغیر آدھار ووٹر کارڈ، ہندوستان میں نیا ووٹ بنوانے کا طریقہ،
ووٹر رجسٹریشن 2026، الیکشن کمیشن آف انڈیا، ووٹر کارڈ کے نئے قوانین، آدھار کارڈ کی قانونی حیثیت، فارم نمبر 6،
ووٹر لسٹ میں نام درج کرانا،
ووٹر شناختی کارڈ کے لیے ضروری دستاویزات، ووٹر آئی ڈی آدھار لنک، ہندوستانی
انتخابی قانون 2026
کیا ہندوستان میں ووٹر بننے کے لیے
آدھار کارڈ ضروری ہے؟
ہندوستانی قانون،
الیکشن کمیشن کی ہدایات
اور عوام میں پائی جانے والی ایک اہم غلط فہمی
کا جائزہ
تحریر: محمد
صدیق قاسمی 24 اکتوبر 2026
ہندوستان میں انتخابات کا موسم قریب آتے ہی ووٹر لسٹ، شناختی کارڈ
اور انتخابی رجسٹریشن سے متعلق مختلف سوالات سامنے آنے لگتے ہیں۔
انہی میں ایک اہم سوال یہ
بھی ہے کہ کیا ووٹر کارڈ بنوانے کے لیے آدھار کارڈ کا ہونا ضروری ہے؟
اگر کسی ہندوستانی شہری
کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے تو کیا وہ ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج نہیں کراسکتا؟
یہ محض ایک قانونی سوال نہیں، بلکہ عام شہری کے انتخابی حق سے متعلق
ایک اہم مسئلہ ہے۔
خصوصاً ایسے افراد کے لیے
جو معلومات کی کمی یا سرکاری کارروائیوں کی پیچیدگی کے باعث یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ
آدھار کارڈ کے بغیر ووٹر بننا ممکن ہی نہیں۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے ایک بنیادی حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ ہندوستان
میں ووٹر رجسٹریشن کے لیے آدھار نمبر فراہم کرنا رضاکارانہ ہے، لازمی نہیں،یعنی آپکے
پاس آدھار کارڈ ہے تو آپ اسکو درخواست
کے ساتھ جمع کراسکتے ہیں اگر نہیں ہےتو اسکے متبادل ایسے کاغذات موجود ہیں جنکو آدھار کارڈ
کی جگہ استعمال کیاجاسکتاہے۔
ہندوستانی قانون کیا کہتا ہے؟
ہندوستان میں ووٹروں کی رجسٹریشن کا بنیادی قانون عوامی نمائندگی
قانون 1950 ہے۔ سن 2021 کی انتخابی اصلاحات کے ذریعے اس قانون کی دفعہ
23 میں آدھار
سے متعلق بعض دفعات شامل کی گئیں۔
اس کی ذیلی دفعہ 6 میں یہ قانونی تحفظ موجود ہے
کہ مقررہ معقول وجہ سے آدھار نمبر فراہم نہ کرسکنے والے شخص کی درخواست محض اسی بنیاد
پر مسترد نہیں کی جائے گی، اور نہ ہی کسی موجودہ ووٹر کا نام صرف اس وجہ سے فہرست سے
حذف کیا جائے گا۔
بلکہ قانون میں متبادل دستاویزات کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ آدھار شناخت کی تصدیق کا ایک ذریعہ ضرور ہوسکتا
ہے، لیکن اسے ہر شہری کے لیے ووٹر بننے کی ضروری شرط قرار دینا درست نہیں۔
قانون 1950، دفعہ 23(4)، 23(5) اور 23(6)۔ حوالہ 1
الیکشن کمیشن کی تازہ ہدایات
15
اکتوبر 2026 کو الیکشن
کمیشن آف انڈیا نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی خلاصہ نظرثانی سے متعلق ایک حکم نامہ جاری
کیا، جس کا نمبر 23/2026-ERS ہے۔
یہ ہدایات یکم جنوری 2027 کی
اہلیتی تاریخ کے حوالے سے 17 ریاستوں اور
مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے انتخابی افسران کے لیے جاری کی گئیں۔
اس حکم نامے کے صفحہ 5، شق 8(e) میں واضح
کیا گیا ہے کہ درخواست گزار فارم نمبر 6 اور فارم نمبر 8 میں اپنا آدھار نمبر رضاکارانہ طور پر فراہم کرسکتا
ہے۔
آدھار نمبر فراہم نہ کرنے
کی بنیاد پر نہ نئی درخواست مسترد کی جائے گی اور نہ موجودہ ووٹر کا نام حذف ہوگا۔
الیکشن کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود وضاحت بھی اسی اصول کی
تائید کرتی ہے کہ آدھار کی معلومات دینا رضاکارانہ ہے ناکہ ضرور اور اجباری۔
موجودہ ووٹر بھی فارم نمبر
6B کے ذریعے
اپنی مرضی سے آدھار کی تفصیلات فراہم کرسکتے ہیں۔
حوالہ :۔ الیکشن
کمیشن کا 15
اکتوبر 2026
کا حکم، شق 8(e)، اور سرکاری سوالات و جوابات،
آدھار کارڈ نہ ہو تو درخواست کیسے دیں؟
نئے ووٹر کی رجسٹریشن کے لیے فارم نمبر 6 مقرر
ہے۔
اس فارم کے خانہ نمبر 5 میں درخواست گزار کو دو اختیارات دیے گئے ہیں۔
وہ اپنا آدھار نمبر درج
کرسکتا ہے یا یہ ظاہر کرسکتا ہے کہ اس کے پاس آدھار نمبر موجود نہیں۔
یہ بات اپنے آپ میں نہایت اہم ہے کہ سرکاری فارم میں آدھار نہ ہونے
کا اختیار موجود ہے۔
تاہم آدھار نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ عمر، رہائش یا دوسری ضروری
معلومات کے ثبوت بھی پیش نہ کیے جائیں۔
تاریخ پیدائش کے ثبوت کے لیے پیدائش کا سرٹیفکیٹ، پین کارڈ، ڈرائیونگ
لائسنس، تاریخ پیدائش والی دسویں یا بارہویں جماعت کی سند یا ہندوستانی پاسپورٹ جیسی
دستاویزات فراہم کی جاسکتی ہیں۔
اسی طرح رہائشی پتے کے لیے مقررہ شرائط کے مطابق بجلی، پانی یا گیس
کا بل، بینک یا ڈاک خانے کی پاس بک، ہندوستانی پاسپورٹ، زمین کی ملکیت کا ریکارڈ، رجسٹرڈ
کرایہ نامہ یا فروخت نامہ استعمال ہوسکتا ہے۔
اگر مقررہ فہرست میں موجود دستاویزات دستیاب نہ ہوں تو دوسری دستاویز
اور متعلقہ انتخابی افسر کی اضافی تصدیق کی گنجائش بھی موجود ہے۔
حوالہ :۔ فارم نمبر 6،
خانے 5، 7 اور 8، اور فارم بھرنے کی ہدایات
ووٹر بننے کی بنیادی شرائط
یہاں ایک اور فرق سمجھنا ضروری ہے۔
آدھار کا رضاکارانہ ہونا
اور ووٹر بننے کی قانونی اہلیت دو الگ معاملات ہیں۔
ووٹروں کی عمومی رجسٹریشن کے لیے ہندوستانی شہریت، مقررہ اہلیتی
تاریخ پر کم از کم اٹھارہ سال کی عمر، متعلقہ انتخابی حلقے میں معمول کے مطابق رہائش
اور قانون کے تحت نااہل نہ ہونا ضروری ہے۔
عمر کی اہلیت کے لیے سال میں چار تاریخیں مقرر ہیں: یکم جنوری، یکم اپریل، یکم جولائی اور یکم اکتوبر۔
اسی طرح کسی مخصوص آن لائن درخواست میں آدھار پر مبنی برقی دستخط
یا شناختی تصدیق کی سہولت استعمال ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ آدھار ووٹر بننے کی
عمومی قانونی شرط ہے۔
آن لائن کارروائی میں دشواری
پیش آنے پر متعلقہ انتخابی رجسٹریشن افسر یا بوتھ لیول افسر سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔
حوالہ :۔ وٹر رجسٹریشن کی رہنمائی اور الیکشن کمیشن کے حکم
کی شق 8(f)
بیرون ملک مقیم ہندوستانی شہریوں کے لیے
جو ہندوستانی شہری روزگار، تعلیم یا دوسری وجوہ سے بیرون ملک مقیم
ہیں اور انہوں نے کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار نہیں کی، ان کے لیے بیرون ملک مقیم
ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کا الگ انتظام موجود ہے۔
اس مقصد کے لیے فارم نمبر 6A مقرر
ہے، جس میں ہندوستانی پاسپورٹ اور متعلقہ ہندوستانی پتے کی تفصیلات اہم ہوتی ہیں۔
لہٰذا قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات،عمان ، یا دوسرے ممالک میں
رہنے والے اہل ہندوستانی شہریوں کو اپنی انتخابی حیثیت کے مطابق درست فارم اور طریقۂ
کار اختیار کرنا چاہیے۔
حوالہ :۔ الیکشن کمیشن کی بیرون ملک مقیم ووٹروں سے متعلق رہنمائی
ایک ضروری بات
انتخابی حق جمہوری نظام کی بنیادی ذمہ داریوں اور حقوق میں شامل
ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ عوام
تک انتخابی قوانین کی درست معلومات پہنچائی جائیں اور کسی غیر ضروری غلط فہمی کو شہریوں
کے لیے رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔
قانونی صورت حال یہی ہے کہ آدھار نمبر نا ہونا بذات خود ووٹر رجسٹریشن
سے محرومی کی وجہ نہیں بن سکتا۔
البتہ درخواست گزار کو اپنی
اہلیت ثابت کرنا، درست دستاویزات فراہم کرنا اور مقررہ تصدیقی کارروائی مکمل کرنا ہوگی۔
ہمیں چاہیے کہ سرکاری قوانین اور مستند ہدایات کو بنیاد بنائیں،
غیر مصدقہ اطلاعات سے بچیں اور دوسروں تک بھی درست معلومات پہنچائیں، تاکہ کوئی اہل
شہری محض غلط فہمی کی وجہ سے اپنے انتخابی حق کے حصول سے محروم نہ رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقائق کو سمجھنے، درست بات آگے پہنچانے اور اپنی
اجتماعی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
محمد صدیق
قاسمی
مقیم حال قطر
مضمون
میں جن سرکاری ،قانونی ،اور انتخابی، حوالوں
کا ذکر کیاہے، انکے لنکس دیے جارہے ہیں۔
1.
عوامی نمائندگی قانون
1950
— دفعہ 23
حکومت ہند، انڈیا کوڈ
اصل قانونی دستاویز ملاحظہ کریں
2.
الیکشن کمیشن کا حکم
نامہ —
15 اکتوبر 2026
حکم نمبر23/2026-ERSصفحہ 5، شق 8(e) اور
8(f)۔ اس سرکاری حکم کی متعلقہ عبارت کی براہ راست
تصدیق بھی ہوئی ہے۔
3
آدھار کی لازمی حیثیت
سے متعلق سرکاری وضاحت
الیکشن کمیشن آف انڈیا
4.
نئے ووٹر کے لیے فارم
نمبر 6
5.
فارم نمبر 6 بھرنے کی ہدایات
6.
ووٹروں کی رجسٹریشن
سے متعلق رہنمائی
7.
بیرون ملک مقیم ہندوستانی
ووٹروں کے قواعد
8.
ووٹروں کی خدمات کا
سرکاری پورٹل